انکم ٹیکس محکمے نے جموں و کشمیر میں تلاشی کی کارروائی انجام دی

Image default
Urdu News

نئی دلّی: انکم ٹیکس محکمے نے سری نگر میں 100 سے زیادہ بستروں  والے سب سے بڑے پرائیویٹ سپر اسپیشلٹی  اسپتال چلانے والے ایک گروپ کے خلاف 19 فروری ، 2021 ء کو تلاشی اور ضبطی  کی  کارروائی انجام دی ۔ اس کارروائی  میں 4 رہائشی مقامات سمیت 7 مقامات پر ، جو سب سری نگر میں ہیں ، تلاشی کی کارروائی انجام دی گئی ۔

          اس گروپ کے اہم  کاروبار میں اسپتال چلانا ، زمین جائیداد  اور گھروں میں کام آنے والے ساز  و سامان کی تجارت شامل ہے ۔

          یہ گروپ بڑی تعداد میں زمینوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں  کو خرید کر ، ان کو فروغ دیتا ہے  اور ان میں پلاٹ  کاٹ کر فروخت کرتا ہے۔  اس بات کے ثبوت  ملے ہیں کہ یہ خریداروں سے 50 فی صد سے زیادہ رقم ( جو جائیداد کی رجسٹرڈ  قیمت  سے زیادہ  ہوتی ہے ) نقد وصولی کرتا ہے ۔ تلاشی کی کارروائی میں پایا گیا کہ اس طرح سے حاصل رقم پر کبھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ۔

گروپ نے 14-2013 ء کے بعد سے 100 کروڑ روپئے سے زیادہ کا جائیداد کا لین دین کیا ہے ۔ خریداروں  کے ذریعہ بینک کے ذریعہ ادائیگی  / سرمایہ کاری  کی بھی تحقیقات  کی جا رہی ہے  کیونکہ بادی النظر میں یہ ظاہر  ہوتا ہے کہ  سرمایہ کاری کے لئے انکم ٹیکس ادا کردہ رقم کا استعمال   نہیں کیا گیا ۔  اس طرح ، یہ ٹیکس  نہ صرف فروخت کرنے والے گروپ پر عائد  ہوتا ہے بلکہ  خریداروں پر بھی عائد ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ، زمین / پلاٹ کی خرید  و فروخت  کے تمام لین دین پر ٹی ڈی ایس  کی بھی  خلاف ورزی  کی گئی ہے ۔

 اس کے علاوہ ، تلاشی  سے انکشاف  ہوا ہے کہ جائیداد کی رجسٹرڈ   ویلیو سے زیادہ فروخت  پر نقد رقم  کی ادائیگی  پر ریاستی حکومت  / مرکز  کے زیر انتظام  علاقے کو قابل  ادائیگی اسٹامپ ڈیوٹی   کی بھی کافی چوری کی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں تمام معلومات مرکز کے زیر انتظام  علاقے جموں و کشمیر   کی اتھارٹی  کو دی جائے گی ، جو ضبط کی گئی  دستاویزات  اور سرکل  ریٹ کے نوٹفکیشن اور موجودہ  مارکیٹ  ریٹ سے ظاہر ہوتا ہے ۔

تلاشی  کی کارروائی  سے یہ بھی انکشاف  ہوا ہے کہ کئی افراد نے  بہت سے غیر متعلق لوگوں سے پلاٹ   / زمین تحفے میں  حاصل کی ہے اور اس کو  انکم ٹیکس ایکٹ  ، 1961 کی دفعہ 56 کے تحت آمدنی  کے ذرائع  میں ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ اگر چہ اس پر ٹیکس  واجب الادا  ہوتا ہے ۔  ایسے معاملات میں  تحفہ  دینےو الے افراد کے خلاف  بھی انکم ٹیکس  کی چوری کے تناظر میں چھان بین کی جا رہی ہے ۔

تلاشی کے دوران  بے نامی جائیدادوں  کے ثبوت بھی ملے ہیں اور  ایسی دستاویزات   ضبط کی گئی ہیں ۔ اس سلسلے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔

اسپتال  چلانے میں  رسیدوں  کی ہیرا پھیری  کی بھی تحقیقات کی جا  رہی ہے  ۔ مالی سال 16-2015 ء سے اسپتال  کا اوسط  لین دین 10-12 کروڑ روپئے دکھایا گیا ہے  ۔ البتہ ضبط کئے گئے شواہد  سے ظاہر  ہوتا ہے کہ  یہ لین دین اس سے کم از کم چار گنا  زیادہ ہے ۔ تلاشی کے دوران یہ ثبوت بھی ملا ہے کہ رواں  سال میں ڈاکٹروں  کو 3 کروڑ روپئے  کی نقد ادائیگی  کی گئی ہے ۔

تلاشی کے دوران 82.75 لاکھ روپئے نقد اور  35.7 لاکھ روپئے کے زیورات  اور سونا  – چاندی بھی ضبط کیا گیا ہے  کیونکہ  جس شخص  کے قبضے  سے یہ  سامان حاصل ہوا ہے ، وہ اس بارے میں   کوئی وضاحت  پیش نہیں کر سکا ہے ۔ ایک بینک  لاکر کو بھی  سیل کر دیا گیا ہے  ۔

Related posts

وزیراعظم نے ویسٹرن کورٹ اینیکسی میں ارکان پارلیمنٹ کیلئے

انکم ٹیکس کے محکمے نے کووڈ-19 سے وبائی مرض کے دوران 20 لاکھ سے زائد ٹیکس دہندگان کو 62361 کروڑ روپے کی رقم واپس کی

چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کےہندوستانی وفد کی پولینڈ میں چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کی آٹھویں یوروپین کانفرنس میں شرکت