اترپردیش میں مختلف مقامات پر، محکمہ آمدنی ٹیکس کی تلاشی کی کارروائیاں

Image default
Urdu News

نئی دہلی، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹلیجنس کی گروگرام زونل یونٹ نے جناب نریش متل اور جناب چھیدی لال متل کو گرفتار کیا ہے۔ دونوں چچیرے بھائی ہیں اور ان کی فرم نیا بازار، دہلی-6 میں واقع ہے۔ دونوں ہریانہ کے بہادر گڑھ کے باشندے ہیں۔

صدر بازار، دہلی-6 میں واقع ایک فرم (نام روکا گیا ہے، اس لئے فرم ایکس) 22 مشتبہ فرموں سے بغیر مال کے نقلی چالان حاصل کرتی تھی، اس معاملے میں پہلے سے ہی جانچ چل رہی ہے۔ ان فرموں کے رجسٹرڈ پتے پر جانے کے بعد پتہ چلا کہ فرم دیے گئے پتے پر وجود میں بھی نہیں ہے۔ کچھ معاملات میں، فرموں کو خالی خطہ اراضی پر اور ان لوگوں کی رہائش گاہوں پر رجسٹرڈ دکھایا گیا، جنھوں نے اپنے متعلقہ پتے پر کوئی فرم کھولنے سے انکار کیا۔ کچھ معاملات میں رجسٹریشن حاصل کرنے کے لئے جی ایس ٹی پورٹل پر بجلی کے نقلی بلوں، کرائے کے نقلی معاہدوں کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جی ایس ٹی رجسٹریشن میں دیے گئے بینک کھاتے کی تفصیلات یا تو وجود میں نہیں تھیں یا دیگر افراد کے نام پر تھیں۔ دیے گئے پتے پر پروپرائٹروں کو جاری کئے گئے سمن ڈاک ریمارکس ’’موجود نہیں ہے‘‘، ’’ادھورا پتہ‘‘، ’’نہیں ملا‘‘ وغیرہ کے ساتھ لوٹ آئے۔

’فرم ایکس‘ کے مالک کا بیان پہلے ہی درج کیا گیا تھا، جس میں انھوں نے آر ٹی جی ایس کے توسط سے خرید کے لئے ادائیگی کا دعویٰ کیا تھا اور دو دنوں کے اندر تفصیلات پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ حالانکہ وہ اس کے بعد کوئی تفصیل پیش نہیں کرسکے۔ لہٰذا بینک پیمنٹ سے متعلق تفصیلات کی جانچ کی گئی جس سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ٹرانسفر سے متعلق اندراج کی تفصیل میں وینڈر فرموں کے نام  موجود تھے، لیکن کریڈٹ کھاتے ایک دیگر شخص/ فرم کے نام سے تھے۔

اسی طرح کی ایک اور فرم میسرز پراگ انٹر پرائزیز ہے جو نیا بازار، دہلی میں واقع ہے۔بینکنگ لین دین سے پتہ چلا کہ یہ فرم آر ٹی جی ایس / آن لائن ٹرانسفر کے ذریعے سے میسرز سپر ٹیک، میسرز تلسیان امپیکس اور دیگر فرموں سے بڑی مقدار میں رقم حاصل کررہی تھی۔ اس فرم کے بزنس پریمیسس (کاروباری احاطے) میں کی گئی تلاشی سے پتہ چلا کہ ایک دیگر فرم میسرز پی سی ٹریڈرس کو بھی ان فرموں اور کچھ دیگر فرموں سے آر ٹی جیس ایس / آن لائن طریقے سے بہت پیسہ مل رہا تھا۔ پوچھ تاچھ کے دوران دونوں چچیرے بھائیوں نے اپنی غلطی قبول کی اور کہا کہ وہ یہ رقوم حاصل کرتے تھے اور انھیں ’انگاڑیاز‘ کے توسط سے ’’نقد‘‘ میں بدل دیتے تھے۔ مخصوص ’انگاڑیاز‘ سے ’’نقد‘‘ حاصل کرنے کے بعد وہ اپنا ’’کمیشن‘‘ کاٹتے تھے اور باقی رقم ’فرم ایکس‘ سمیت متعلقہ فرموں کو واپس کردیتے تھے۔ پوچھ تاچھ کے دوران جناب چھیدی لال متل نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے دیگر افراد کے نام سے چار فرضی فرم بنائی ہیں اور چار سے پانچ فیصد کمیشن کے عوض بغیر مال کے نقلی بل دیئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب انھیں ’فرم ایکس‘ کے سلسلے میں چل رہی جانچ کا پتہ چلا تو انھوں نے پرانی فرموں کو بند کردیا اور نئی فرمیں شروع کیں اور نقلی بل دینا جاری رکھا۔

مذکورہ چار فرموں نے 26.06 کروڑ روپئے کے نقلی کریڈٹ حاصل کئے ہیں اور 25 کروڑ روپئے کا نقلی کریڈٹ دیا ہے۔ جانچ کی بنیاد پر اور چچیرے بھائیوں کے ذریعے سچائی کے اعتراف کی بنیاد پر انھیں 19 نومبر 2020 کو گرفتار کیا گیا اور ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جنھوں نے انھیں 14 دن کی عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا۔

Related posts

صدرِ جمہوریۂ ہند نے دُرگا پوجا سے قبل عوام کو مبارکباد دی

NITI Aayog pitches for transition to Resource Efficiency and Circular Economy as an Economic Paradigm for New India

سودیش درشن اسکیم کے تحت منی پورمیں ‘‘شمال مشرقی سرکٹ :امپھال اور خونگ جوم ’’کا افتتاح