آتم نربھر بھارت تبھی ممکن ہوگا جب ہمارے شہر پیداواری (پروڈکٹیو) بنیں گے: جناب ہردیپ پوری

Image default
Urdu News

نئی دہلی، ہاؤسنگ اور شہری امور اور پیٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری نے  کہا کہ  ایک آتم  نربھر بھارت تبھی ممکن ہوگا جب ہمارے شہر پروڈکٹیو بنیں گے۔ جناب پوری نے  آج یہاں ’کنیکٹ کرو2021-ٹوورڈس ایکٹایبل ، سسٹنین ایبل انڈین سٹیز‘ پروگرام کے  افتتاحی اجلاس سے  خطاب کرتے ہوئے کہاکہ  اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ  شہری مرکوز بنیادی ڈھانچے  اور تبدیلی لانے والی   ٹکنالوجی کے ذریعہ تعاون شدہ ہندستان کے شہر ملک کی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کی کنجی ہوں گے۔  عالمی ریسورس انسٹی ٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی)کے ذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے یہ پانچ روزہ    (13-17 ستمبر2021)پروگرام  کا انعقاد کیا جارہاہے۔

جناب ہردیپ سنگھ پوری نے کہاکہ 2030 تک قومی مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً 70 فی صد ہمارے شہروں سے  آئے گا۔کیونکہ   تیزی سے بڑھتی ہوئی شہر کاری  معاشروں کی صلاحیتوں کو  بڑھاتی ہے۔ عالمی پیمانے پر سب  سے اچھا مظاہرہ کرنے والے شہر  ہندستانی   شہروں کے مقابلے میں قومی مجموعی   گھریلو پیداوار میں  پانچ گنا زیادہ تعاون دیتے ہیں۔ ہمارے  معزز وزیراعظم پانچ ٹریلین  کی معیشت بننے میں اپیل کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہمیں اپنے شہروں میں  زبرست معاشی سرگرمیاں چلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھلے ہی شہر ہمارے ملک کی معیشت کے  انجن بن جاتےہیں لیکن بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دور کرنا بھی  اتنا ہی اہم ہے ، جو 2030 تک تیزی سے شہر کاری  پیچیدہ  تارکین بہاؤ سے پیدا ہوگا ۔ ہندستان میں شہری آبادی  تقریباً دو گنا ہوکر 630 ملین ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں  ترقی کی اس سطح کو سہل بنانے ہے تو ہمیں  اپنے شہری بنیادی ڈھانچے کو کافی  فروغ دینا ہوگا  اور ہمارے شہروں پر کووڈ-19 کے  بھیانک اثرات نےاسے اور بھی زیادہ اہم بنادیا ہے،

شہر کاری کے فروغ  کے برعکس اثر پر گفتگو کرتے ہوئے جناب پوری نے کہا ہمارے شہروں کی صلاحیت کو عملی جامہ پہنانا صرف   ایک معاشی ضرورت نہیں ہے  یہ ایک ماحولیاتی حقیقت بھی ہے۔ ہمارے شہر آب و ہوا کی  تبدیلی کے خلاف  لڑائی کے میدان ہوں گے۔ جیسا کہ حال ہی میں آئی پی سی سی کی رپورٹ بتاتی ہے،۔، شہر آب وہوا کی تبدیلی سے  سب سے زیادہ اثر دار ہونے کے ساتھ ساتھ  سب سے زیادہ متاثر ہیں اس لئے حکومت ہند نے دنیا کے کسی بھی حصے  کے مقابلہ میں  سب سے زیادہ وسیع اور منصوبہ بند پروگرام کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔

جناب پوری نے کہاک ہ گزشتہ چھ برسوں (2021-2015) میں شہری ترقی پر کل خرچ میں   8 گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعدادوشمار تقریباً 11.83 لاکھ کروڑ روپے ہیں جبکہ 2004 سے 2014 تک  یہ اعدادوشمار 1.57 لاکھ کروڑ روپے تھے۔

وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم (پی ایم اے وائی) پر ، جناب پوری نے کہاکہ اسے غیر معمولی کامیابی ملی ہے، کیونکہ  تقریباً 1.13 کروڑ گھروں کو منظوری دی گئی ہے اور مستفدین پہلے ہی  50 لاکھ سے زیادہ  رہائشی اکائیوں میں چلے  گئےہیں اور ہم 2022 کے لئے مقررہ اہداف کو  پورا کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ زمین کے استعمال کی اسکیم کی ایڈوانس  ترقی یافتہ رواجوں کو شامل کرتے ہوئے ٹکاؤ اور توانائی کی صلاحیت والے  طریقوں کا استعمال کرکے کافی تعداد میں ہاؤسنگ یا رہائش کو  فروغ دیا گیا ہے۔

کایا پلٹ اور شہری تبدیلی کے لئے اٹل مشن (امرت مشن) پر انہوں نے کہا کہ اس نے بنیادی سماجی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔  امرت کے  تحت ، 3700 ایکڑ میں 1831 پارک  بنائے گئے ہیں  اور 85 لاکھ اسٹریٹ لائٹوں کو  بدلا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں  185.33 کروڑ  یونٹ  (کے ڈبلیو ایچ) کی  بجلی کی بچت ہوئی ہے۔

ان مشنوں کو نافذ کرنے میں  حکومت کے ذریعہ حاصل کئے گئے لگاتار  ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی)   پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ  یہ مشن   زیادہ ترقی  سماجی انصاف اور ماحولیاتی استحکام  حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ بہتر شہری ایکولوجیکل سسٹم کا نہ صرف ایس ڈی جی 11 (شہروں او رسماجوں ) کے اہداف پر بلکہ غریبی ، صحت ، تعلیم ، صفائی ، توانائی اور  آب وہوا کارروائی  جیسی  ترجیحات کامپٹیٹیو اور مثبت اثر پڑے گا۔

جناب ہردیپ  پوری نے کہاکہ  ہم زندگی کے    پائیدار  وسائل کی طرف  بڑھنےکے لئے   ایک  طویل مدتی پالیسی ساز ڈھانچہ بھی  بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کلائمٹ اسمارٹ سٹیز اسسٹمنٹ فریم ورک کے ذریعہ ، ہم نے تبدیلی آب و ہوا میں تال میل قائم کیا ہے ۔ اس طرح ہمارے شہروں کو  غیر قابل تجدید توانائی پر  انحصار کو کم کرنے کے لئے آگے کا راستہ  طے کرنے میں اہل بنایا گیاہے۔

انہوں نےکہا کہ یہاں مودی سرکارکے تحت  خصوصی طور پر محرک ہونے کے   تحت  ہندستان  کے محرک ایجنڈے کو دوبارہ  یا پھر سے تیار کرنے میں ایک آئیڈل تبدیلی آئی ہے۔  شہری ٹرانسپورٹ اسکیم کے تحت 20 ہزار  سے زیادہ بسوں  کے لئے مالی تعاون کے لئے سرکاری-نجی حصہ داری لاگو نافذ کرکے  سرکاری بس ٹرانسپورٹ خدمات  کی توسیع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا  ہم ملک بھر میں سرکاری ٹرانسپورٹ   اور بغیر موٹر  سے چلنے والے  ٹرانسپورٹ (ایم ایم ٹی)  متبادلوں کی  حمایت کررہے ہیں۔  فی الحال 18 شہروں میں72 کلو میٹر کی میٹروں لائنوں کو چالو کیا ہے ۔ اور 27 شہروں میں 1058 کلو میٹر کا ایک نیٹ ورک زیر تعمیر ہے۔

جناب پوری نے کہا کہ حکومت ہند کے سبھی 4378  شہری مقامی اداروں  میں وسیع طور پر پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے  اور امرت اسکیم کے تحت پانچ سو شہروں میں رقیق کچرے کے انتظام کو  اہل بنانے کے لئے 2.8 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے جل جیون مشن  (شہری)  کی شروعات کرے  گی۔

جناب پوری نے کہاکہ حکومت 1.41 لاکھ  کروڑ روپے کی لاگت سے  سووچھ بھارت مشن  2.0 کا بھی آغاز کررہی ہے  جس کے تحت  کیچڑ کے انتظام،  کچرا اور خراب پانی کے ٹریٹمنٹ، فضائی آلودگی اور بائیو ٹریٹمنٹ  ڈمپ سائٹوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

آخر میں جناب پوری نے کہاکہ    پہلے شہری ترقی کے لئے   پیرامڈ کے ایک نظریے کا  مظاہرہ کرتی ہے ، جس لگاتار ڈیٹا اور ٹکنالوجی کے  سرگرم استعمال کے ذریعہ آگاہ کیا جاتا ہے۔  اس سلسلہ میں، ’مساوی‘پائیدار  شہر کاری پر یہ گفتگو  موضوع سے بے حد وابستہ ہے اور انہوں نے کہا کہ اس پانچ روزہ انعقاد میں  غوروخوض سے  شہری ترقی پر بہت سارے  دلچسپ خیالات اور نظریات سامنے آئیں گے۔

Related posts

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اندرون ملک آبی نقل و حمل اور تجارتی پروٹوکول سے متعلق دوسرا ضمیمہ، 2020

پاکستان کے ذریعے کلبھوشن جادھو کے اہل خانہ کی ملاقات کرانے کا انداز غیر انسانی:ایم وینکیا نائیڈو کا بیان

صدر جمہوریہ پنجاب اور ہماچل پردیش کا 20 مئی سے 24 مئی تک دورہ کریں گے