Breaking News
Home » Urdu News » گزشتہ تین برسوں کے دوران وزارت ثقافت کی اہم حصولیابیاں

گزشتہ تین برسوں کے دوران وزارت ثقافت کی اہم حصولیابیاں

نئیدہلی: ثقافت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج ) ماحولیات ،جنگلات اور آب وہوا میں تبدیلی کی روک تھام کے وزیر مملکت  ڈاکٹر  مہیش  شرما  نے راجیہ سبھا  میں بغیر ستارے والے  ایک سوال کے جواب میں  معلومات فراہم کی کہ ثقافت کی وزارت کا اصل کام،  قدیم ثقافتی ورثے کی حفاظت اور مرئی  اور غیر مرئی فنون اور ثقافت کو اس سے منسلک ،ذیلی  اور خود مختار تنظیموں کے ذریعہ فرو غ دینا ہے ۔اس کی سرگرمیاں اور پروگرام بہت سے ثقافتی طریق کار کے انداز میں انجام دئے جاتے ہیں  ، جیسے  آثار قدیمہ کے مقامات،  میوزیموں اور ان کے فن پاروں  ،سرکاری لائیبریریوں  کا تحفظ اور فنون لطیفہ کے فروغ  اور انہیں پھیلانا ،  بودھ اور تبتن مطالعات  ، بین الاقوامی ثقافتی   تعلقات اور ثقافتی عمارتوں کی تعمیر ۔ گزشتہ تین برسوں میں  جو بڑی حصولیابیاں ہوئی ہیں ان کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

          17-2016 اور 2018  کے دوران ثقافت کی وزارت اور اس کی تنظیموں کی بڑی حصولیابیاں :

  1. ای –ٹکٹنگ جن تاریخی عمارتوں پر ٹکٹ عائدہے، ان سبھی پر سیاحوں کے لئے بغیر نقدی  کا طریق کار ۔
  2. ’’ بھارت کیتاریخی عمارتوں اور آثار قدیمہ کے مقامات کو ضروردیکھئے ‘‘  پر پورٹل کے لئے 100تاریخی عمارتوں  کی نشاندہی کی گئی۔
  3. لداخ میں  طول البلد تقریباََ  13 ہزار 500سے  14 ہزار فٹ  پر ساسیر لا پاس  کے قریب  مقام پر کھدائی کا کام ۔   پرانا قلعہ (دلی )  کالی بنگن  اور بنجور (راجستھان )، لوتھل اور دھولہ ویرا (گجرات ) اور سنّتی  (کرناٹک)،  بھارت سے باہر تحفظ کا کام ، کمبوڈیا ،لاؤس ، میانما اور ویتنام میں  آثار قدیمہ کے مقامات  کا فروغ ۔ ثقافت کی وزارت  کے بھارت کے محکمہ آثارقدیمہ  (دلی سرکل ) نے    تاریخی عمارت کے تحفظ کے کام کے دوران کھڑکی مسجد  کے احاطے میں  عہد وسطیٰ  کے  ، تانبے کے 254 سکوں  کے ایک ذخیرے کا پتہ لگایا ۔
  4. بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے ان سبھی تاریخی عمارتوں اور مقامات کے احاطوں میں فوٹو گرافی کی اجازت دے دی ہے ، جن کا تحفظ مرکزی طور پر کیا جاتا ہے ۔
  5. تجارت کو آسان بنانا ۔ این ایم اے اجازت کے لئے ویب سائٹ اور اسمارٹ سمارک  موبائل ایپ  ۔
  6. اسرو  کی مددسے  محکمہ آثار قدیمہ کی تاریخی عمارتوں کی  مصنوعی سیارچے کے ذریعہ نقشہ بندی کی گئی ۔
  7. 17 مسروقہ اشیا کو بیرون ملک سے واپس لایا گیا ۔
  8. سووچھ بھارت  -سووچھ اسمارک  – محکمہ آثار قدیمہ کی تحفظ والی تمام عمارتوںاور مقامات کو پولیتھین سے پاک زون قراردیا گیا۔  26 دسمبر 2014  کو محکمہ آثار قدیمہ کے 25  مقامات کا آغاز ’’ آدرش سمارک ‘‘  کے طور پر کیا گیا ۔محکمہ آثار قدیمہ نے  بیت الخلا  ،سبزہ زاروں  ، پولیتھین سے پاک زون  ،  بیدار ی سے متعلق علامتوں  ، معذور افراد کی رسائی  ،  پینے کے پانی  اور کوڑے دان  کی سہولت وغیرہ  جیسی سہولیات   کے  ، صفائی ستھرائی کے معیارات کی بنیاد پر 25 سرکردہ  آردرش  تاریخی عمارتوں کی   درجہ بندی کی ہے۔’’ رانی کی کاو‘‘(گجرات ) جو عالمی وراثت کا ایک مقام ہے ،اسے ملک میں  سب سے زیادہ صاف علامتی جگہ قرار دیا گیا ہے۔
  9. پنڈت دین دیال اپادھیائے  انسٹی ٹیوٹ  آف آرکیالوجی  اے ایس آئی کا قیام ۔
  10. بین الاقوامی بدھ پورنیمادوس  کی تقریبات  ۔ وزیر اعظم کی موجودگی میں  آزادہندحکومت کی تشکیل کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات ۔
  11. 15-2014  اور 2016  کے لئے  ثقافتی ہم آہنگی کے صلے میں  منی پوری رقاص  جناب راج کمار سنگھ جیت  سنگھ    کو  ٹیگور انعام سے نوازا گیا ، جو  چھایا نٹ   (بنگلہ دیش کی ایک ثقافتی تنظیم ) ہے   اور اسی سلسلے کا ایک انعام بھارت کے عظیم ترین  مجسمہ نگار جناب رام ونجی ستار کو دیا گیا ۔
  12. نئی دلی ،الہ آباد ،وارانسی ، گجرات ، پوڈوچری ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، اتراکھنڈ وغیرہ میں راشٹریہ  سنسکرتی  مہوتسو  کا انعقاد کیا گیا ۔
  13. گاندھی وراثت  : الہ آبادسے ڈانڈی تک  ڈانڈی وراثتی راستے  کی تعمیر  اور رات کے دوران  قیام کرنے کے لئے  21  مقامات کی تکمیل ۔ناؤ کھلی (بنگلہ دیش ) گاندھی آشرم ٹرسٹ کی جدید کاری  ۔
  14. تقریباََ 37  ملکوں میں بھارت کے فیسٹول    کا انعقاد کیا گیا ۔
  15. سکم میں  کھنگ چین  ڈزونگا  نیشنل پارک کے ایم پی اور چنڈی گڑھ میں کیپیٹول  کمپلیکس کو  عالمی وراثتی مقام  کا درجہ دئے جانے کا اعلان کیا ۔
  16. نیتا جی کی فلمیں جاری کی گئیں ۔
  17. وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک ڈجیٹل نمائش –  ’’  بھارت کو متحد  کرنا   :  سردار پٹیل ‘‘  کا افتتاح کیا ، جس  کا اہتمام بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم  اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش  راشٹریہ ایکتا دوس  کے موقع پر ثقافت کی وزارت نے کیا  ۔ یہ انعقاد 31  اکتوبر 2016  کو نئی دلی میں  نیشنل سائنس سینٹر میں کیا گیا ۔
  18.  لالہ لاجپت رائے  ،  مہارانا پرتاپ  ،رانی گائدن لیو  ، تاتیا ٹوپے  ،   بھیشم ساہنی    کی یادگاری تقریبات  منائی گئیں ۔ شری گرونانک دیو جی کے 550ویں  یوم پیدائش    کی تقریبات منائی گئیں۔بھارت رتن جناب اٹل بہاری واجپئی کے اعزاز میں ایک یادگاری سکہ جاری کیا گیا ۔
  19. نیشنل اسکول آف ڈرامہ نے  سال 2018  میں   تھیئٹر اولمپکس  کے آٹھویں ایڈیشن کی میز بانی کی ۔
  20. اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس ( آئی جی این سی اے ) کی طرف سے ’’ ویدک ہیریٹیج  ‘‘  پورٹل کا پہلا ورژن  جاری کیا گیا۔
  21. ثقافت کی وزارت   کا منصوبہ یہ بھی ہے کہ وہ  ملک کی مرئی  اور غیر مرئی  وراثت کی نمائش کے لئے  ورچوول  میوزیم    قائم کیا جائے ۔ اس نوعیت کا پہلا مجوزہ میوزیم  مان محل میں  قائم کئے جانے کے مرحلے  ۔
  22. حکومت ہند کی  ثقافت کی وزارت نے 1.8.2018   کو ’’  سیوا بھوج یوجنا ‘‘   نام کی نئی اسکیم شروع کی ۔ جس پر 19-2018   اور                        20-2019کے مالی سال میں   325  کروڑ روپے  کی تخمینہ   لاگت آئے گی اور
  23. دلی میں  بھارت کے وزرائے اعظم سے متعلق میوزیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔

About admin