Breaking News
Home » Urdu News » سماجی سائنس کے محققین معاشرے کی پریشانیوں پر توجہ مرکوز کریں:نائب صدر جمہوریہ

سماجی سائنس کے محققین معاشرے کی پریشانیوں پر توجہ مرکوز کریں:نائب صدر جمہوریہ

نئی دہلی: نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے سماجی سائنس کے محققین پر اس بات کے لئے زور دیا ہے کہ وہ اختراعی اور پائیدار حل پیش کریں تاکہ  ایک جامع ترقی حاصل کرنے کے لئے دنیا کو درپیش  غربت کے مختلف مسائل سے نکالا جا سکے۔

آج یہاں سماجی سائنس کی تحقیق کی ہندوستان کونسل کی گولڈن جبلی تقریبات میں اظہار خیال کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ  ہر تحقیق کے نتیجے کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ عوام کی زندگی بہتر ہو۔ سماجی سائنسی تحقیق کا مقصد غریب لوگوں کی ترقی  ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر محققین اس شعبے میں اور عوام کے ساتھ اپنا وقت گزارنے میں نا کام رہے، تو اس طرح کی تحقیق نا مکمل ہوگی۔

معاشرے میں درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئے سماجی سائنس کے محققین پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے اختراعی ترقی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پائیدار ترقیاتی مقاصد حاصل کرنے کےلئے آبادی کی صحت کو دھیان میں رکھا جائے، غربت کا خاتمہ کیا جائے، شہری دیہی تقسیم کو کم کیا جائے اور زرعی ضرورت کے ذریعے درپیش چیلنجوں کو ایک نئے اور عملی طور طریقے سے حل کیا جائے۔

نائب صدر نے کہا کہ مختلف نظم و ضبط کے درمیان سخت حدیں تقریبا ختم ہو گئی ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ آج کے محققین خود کو الگ الگ حصوں میں محدود نہیں کر سکتے اور انہیں دیگر متعلقہ نظم و ضبط کی بنیادی سمجھ بوجھ رکھنی چاہئے۔  انہوں نے مزید کہا کہ مثال کے طورپر  صحت ، تعلیم اور ماحولیات کو خاص نظم و ضبط میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔

بایو ٹیکنالوجی، جینیٹک انجینئرنگ، بایوڈائورسٹی، نئے مادوں، بہت چھوٹی مشینوں اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہاکہ سماجی ، سائنسی تحقیق  میں پالیسی سازوں کے ڈاٹا بیس مستحکم کرنے چاہئیں اور  انہیں پالیسی سدھار اور نفاذ کے لئے ثبوت پر مبنی معلومات  فراہم کرے۔

نائب صدر جمہوریہ نے  سماجی سائنس دانوں کو مشورہ دیا کہ وہ تحقیق کے نئے شعبے تلاش کریں اور ان کے بارے میں سوچیں، جو ایک ملک کے طور پر ہمارے لئے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  اس دوران باقی دنیا کے لئے ہم اجتماعی تشویش کاخیال رکھیں۔

نائب صدر جمہوریہ نےکہا کہ عالم کاری کے پیش نظر دنیا میں بہت تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ جناب نائیڈو نے کہا کہ  ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے اور کوئی بھی ملک آج الگ تھلگ رہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرم روی، نجکاری اور عالم کاری  بہت سے مواقع کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے چیلنجز لائی ہے ۔ سماجی سائنس کی تحقیق کے ہندوستانی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر بی بی کمار، کونسل کے ممبر سکریٹری پروفیسر وی کے ملہوترا، ماہرین تعلیم اور سماجی سائنس کے محققین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ نائب صدر جمہوریہ نےکہاکہ مجھے سماجی سائنس کی تحقیق کی ہندوستانی کونسل کے گولڈن جبلی پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوئی ہے، جس نے اپنے قیام کے 50 سال پورے کر لئے ہیں اور یہ کونسل کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، جو سماجی، اقتصادی اور انسانی ترقی جیسے پیچیدہ مسائل سےنمٹ رہی ہے۔

یہ کونسل 12؍ مئی 1969 میں قائم ہوئی تھی، جس کا مقصد ملک میں سماجی سائنس کی تحقیق کی حوصلہ افزائی، اس کے فروغ کے علاوہ اسے فنڈ فراہم کرنا تھا۔ سماجی سائنس کی تحقیق کی ہندوستانی کونسل ایک ایسے واحد ادارے کے طور پر ابھرا ہے، جس نے ملک کی ترقی میں سرگرام خدمات انجام دی ہیں اورا پنی سماجی سائنسی تحقیق کے ذریعہ معاشرے کی خدمت کی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ  میں اس بات سے با خبر ہوں کہ سماجی سائنس کی تحقیق کے مقصد کے ساتھ کونسل نے 6 علاقائی سنٹر قائم کئے ہیں اور 24 تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے لئے فنڈ دیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں 5 تسلیم شدہ تحقیقی انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں۔

پیارے بھائیو اور بہنوں ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجیکل اور دیگر محاذوں پر دنیا اور ہندوستان میں تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ لہذا معیشتوں کی عالم کاری اور معاشی نرم روی کے عمل نے، جس کا آغاز 1990 کی دہائی کے  شروع میں ہوا تھا۔ دنیا کے ملکوں میں باہمی اور کثیر رخی تعلقات کے بین الاقوامی منظرنامے کو بدل دیا ہے۔ ملک کی معیشت اور معاشرے کی اہمیت کے معاملوں کے قابل قبول حل تلاش کرنے کے لئے سماجی سائنس کے پہلوؤں کے ذریعے ان کی   زبردست طور پر  ستائش کی ضرورت ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ سماجی سائنس کی تحقیق کی ہندوستانی کونسل نے گزشتہ 50سال کے دوران تقریبا 6250پروجیکٹ اور 471 تحقیقی پروگرام منظور کئے۔ اس نے 6015 ڈاکٹریٹ سطح کے فیلوشپ ، 2081 پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ اور دیگر فیلو شپ عطا کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور یہ فیلو شپ سماجی سائنس کی تحقیق میں مصروف اسکالروں کو مختلف زمروں میں دی گئی۔ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ ڈاکٹرل فیلو شپ اور پوسٹ ڈاکٹرل فیلو شپ عطا کر کے کونسل کی ایک اہم تشویش نوجوان محقیقین  کی ہمت افزائی کرنا ہے اور انہیں آگے بڑھانا ہے۔

سماجی سائنس کی تحقیق کی ہندوستانی کونسل جیسے تحقیقی ادارے پالیسی سازوں کو قیمتی تحقیقات فراہم کر رہے ہیں، یہ سماجی سائنس کے محققین کے لئے اہم ہے تاکہ سماجی سطح کے مسائل پر توجہ دی جا سکے اور ان کا حل تلاش کیا جا سکے، جسے پورا معاشرہ اس طرح کی کوششوں سے فائدہ اٹھا سکے۔

مجھے خوشی ہے کہ سماجی سائنسی تحقیق کی ہندوستانی کونسل خواتین کو با اختیار بنانے، قومی یکجہتی اور درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے علاوہ اقلیتوں کو تعلیمی درجہ دلانے جیسے موضوعات پر قومی سطح کے مطالعات میں مصروف ہے۔ اکتوبر 2018 میں ایم ایچ آر ڈی کے ذریعے سماجی سائنس میں پُراثر پالیسی تحقیق کا آغاز حقیقت  میں  سماجی سائنس کی تحقیق کی بھارتی کونسل کے لئے ایک سنگ میل ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ  سماجی سائنس داں اب تک کی گئیں حصولیابیوں کو اورزیادہ مستحکم یں۔ ہمیں تحقیق کے نئے شعبوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے، جو ایک ملک کے طور پر ہمارے لئے اہم ہیں۔

About admin